نئی دہلی،30؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی)دہلی کی سرحدوں پر ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ تک چلے کسان آندولن کا اہم چہرہ رہے کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے پھر سے آندولن کا اعلان کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ 31 جنوری کو ملک بھر کے کسان سرکاری افسروں کے دفاترپر جمع ہوں گے۔
ٹکیت نے کہا کہ 31 جنوری کو پورے ملک کے ایس ڈی ایم، ڈی ایم اور ڈی سی کے یہاں ہمارا پروگرام ہے، حکومت ہند نے ایم ایس پی گیارنٹی قانون بنانے کیلئے ایک کمیٹی بنانے کی بات کی تھی، وہ کمیٹی ابھی تک نہیں بنی ہے۔ بہت سے پرچے درج ہیں، وہ پرچے واپس نہیں کیے گئے، حکومت کو ایک بار یہ سارے وعدے پھریاد دلائیں گے۔دراصل سنیکت کسان مورچہ کے قائدین نے گزشتہ دنوں میٹنگ میں فیصلہ کیا تھا کہ 31جنوری کو ملک بھر میں یوم غداری(وشواس گھات دیوس)منایا جائے گا اور ضلع اور تحصیل سطح پر بڑے احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جائیں گے۔ ان مظاہروں میں مرکزی حکومت کو ایک میمورنڈم بھی دیا جائے گا۔
سنیکت کسان مورچہ کے لیڈروں کا الزام ہے کہ حکومت ہند نے تحریک کی واپسی کیلئے ایم ایس پی کے مسئلہ پر ایک کمیٹی تشکیل دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ احتجاج کے دوران مقدمہ فوری واپس لینے اور کسان شہدا کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کے وعدے کئے گئے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔غور طلب ہے کہ نومبر 2020 کے مہینے میں مرکزی حکومت کی طرف سے منظور کیے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ اس دوران حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور بھی ہوئے لیکن تعطل برقرار رہا۔ لیکن گزشتہ سال 19 نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے تینوں قوانین کو واپس لینے کی بات کہی۔
تاہم اس کے بعد بھی کسان تحریک ختم کرنے کو تیار نہیں تھے۔بعد میں گزشتہ سال 9 دسمبر کو مرکزی حکومت کو ایک تجویز بھیجی گئی، جس میں ایم ایس پی کے حوالے سے ایک کمیٹی بنانے، احتجاج کرنے والے کسانوں کے خلاف مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کی طرف سے درج تمام مقدمات کو فوری واپس لینے، احتجاج میں شہید ہونے والے کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی، جس کے بعد کسانوں نے اپنا احتجاج واپس لے لیا۔